![]() |
| Maulana Ubaidullah Sindhi: Books, Writings & Scholarly Works in Amrot |
سندھ میں علمی زندگی: امروٹ شریف کا سنہرا دور
مولانا عبید اللہ سندھی نے امروٹ شریف میں تقریباً سات سال (۱۳۰۸ھ تا ۱۳۱۵ھ) قیام کیا۔ یہ دور آپ کی علمی زندگی کا سب سے زیادہ نتیجہ خیز دور تھا، جس میں آپ نے نہ صرف کتب کا درس دیا بلکہ بیش بہا تصانیف بھی تحریر فرمائیں۔
امروٹ میں قیام کے دوران تصنیف کردہ کتب
📘 ۱-۴ کتب حدیث و فقہ
- ۱ تعليق على معاني الآثار للإمام الطحاوى
- ۲ تعليق على فتح القدير لمحقق ابن الهمام
- ۳ فتح السلام في شرح بلوغ المرام
- ۴ شرح سفر السعادة للفيروز آبادي
📘 ۵-۸ تخریج و تحقیق
- ۵ تخريج ما في الباب للإمام الترمذي
- ۶ تخريج أحاديث غنية الطالبين للشيخ عبد القادر جيلاني
- ۷ إزالة الشبه عن فرضية الجمعة
- ۸ تهذيب رفع اليدين للإمام البخاري
📘 ۹-۱۰ کتب متنوع
- ۹ تنسيق أحاديث بدء الوحى من الجامع الصحيح
- ۱۰ سندھی ترجمہ قرآن حکیم (بطور معاون، حضرت مولانا تاج محمود امروٹی کے ساتھ)
مطبع محمود اور اشاعتی خدمات
📰 مطبع محمود
نشر و اشاعت کا ادارہ "مطبع محمود" قائم کیا۔ اس مطبع سے سندھی زبان میں ماہنامہ "ہدایة الاخوان" جاری کیا۔ اسی مطبع سے کتاب "عقيدة الإمام الطحاوی" شائع کی۔
🖨️ اہم مطبوعات
- 📰 ماہنامہ ہدایة الاخوان (سندھی)
- 📖 عقيدة الإمام الطحاوی
روحانی فیض و خلافت
✨ طریقہ راشدیہ مجددیہ
امروٹ شریف میں قیام کے دوران طریقہ راشدیہ مجددیہ میں سلوک طے کیا۔
🤲 اجازت و خلافت
حضرت مولانا تاج محمود امروٹی اور حضرت ابو السراج مولانا غلام محمد دین پوری نے آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی اور طریقت کی تلقین کا حکم دیا۔ بعد ازاں حضرت شیخ الہند نے بھی اپنے سلسلہ کی اجازت مرحمت فرمائی۔
رمضان ۱۳۱۵ھ: شیخ الہند کی خدمت میں حاضر ی
رمضان ۱۳۱۵ھ / نومبر ۱۸۹۷ء میں آپ دیوبند تشریف لائے اور حضرت شیخ الہند کی صحبت اٹھائی۔ اپنی تمام تصانیف حضرت کی خدمت میں پیش کیں، جنہیں حضرت نے پسند فرمایا۔ اسی موقع پر حضرت شیخ الہند نے سیاسی کام کرنے اور دارالعلوم کے طرز پر سندھ میں ایک مدرسہ قائم کرنے کا حکم دیا۔
📚 مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری کے قلم سے تحریر کردہ یہ تفصیلی خاکہ امام انقلاب کی علمی و روحانی شخصیت کے روشن پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
