Biography | Who Was Ubaidullah Sindhi? – Complete Biography

Maulana Ubaidullah Sindhi: Life, Character & Legacy | Complete Biography
Maulana Ubaidullah Sindhi: Life, Character & Legacy | Complete Biography
Maulana Ubaidullah Sindhi: Life, Character & Legacy | Complete Biography

امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ : شخصیت و کردار

مولانا عبیداللہ سندھیؒ
📚
پیدائش: ۱۲ محرم ۱۲۸۹ھ / ۱۰ مارچ ۱۸۷۲ء
مقام پیدائش: چیانوالی، ضلع سیالکوٹ، پنجاب
وفات: ۲ رمضان ۱۳۶۳ھ / ۲۱ اگست ۱۹۴۴ء
مقام وفات: دین پور، ضلع خان پور، پنجاب
مدفن: خانقاہ راشدیہ، دین پور
استاذ: شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا رشید احمد گنگوہی
سلسلہ بیعت: راشدیہ قادریہ
اہم تصانیف: التّمہید، خطبات و مقالات، الہام الرحمن

📅 اہم واقعات

۱۸۷۲ء
پیدائش
۱۸۸۷ء
اظہار اسلام
۱۸۸۸ء
دیوبند میں داخلہ
۱۸۹۱ء
امروٹ آمد
۱۹۱۵ء
کابل روانگی
۱۹۲۶ء
مکہ آمد
۱۹۳۹ء
ہندوستان واپسی
۱۹۴۴ء
وصال
📖 ولادت

مولانا عبید اللہ سندھیؒ ۱۲؍ محرم الحرام ۱۲۸۹ھ / ۱۰مارچ ۱۸۷۲ء بروز جمعۃ المبارک طلوعِ فجر سے پہلے، پنجاب کے مردم خیز ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں "چیانوالی" میں ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی ذہانت وفطانت کے آثار ظاہر تھے۔ آپؒ کے والد آپؒ کی پیدائش سے چار ماہ پہلے فوت ہوچکے تھے۔ آپؒ کی پیدائش کے دو سال بعد دادا کا بھی انتقال ہوگیا۔ ان کی والدہ انھیں لے کر اپنے والدین کے گھر شہر "جام پور" ضلع ڈیرہ غازی خان (پنجاب) چلی گئیں۔

📚 ابتدائی تعلیم

۱۲۹۵ھ / ۱۸۷۸ء میں چھ سال کی عمر میں "جام پور" کے اُردو مڈل سکول میں تعلیم کا آغاز ہوا۔ آپؒ نے اپنے تعلیمی دور میں ریاضی ، الجبرا، اُقلیدس اور تاریخ ہند سے متعلق علوم و فنون بڑی دلچسپی سے پڑھے۔ تاریخ و فلسفہ اور ریاضی آپؒ کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ اسی دوران آپؒ کو کتابوں کے مطالعے کی عادت ہوگئی۔ جو کتاب بھی دستیاب ہوتی، اُسے پڑھ ڈالتے تھے۔

📖 "تُحفۃُ الہِند" سے اسلام کی حقانیت

۱۳۰۱ھ / ۱۸۸۴ء میں کتاب "تُحفۃُ الہِند" آپؒ کے ہاتھ لگی، جو ایک ہندو برہمن سے مسلمان ہونے والے عالم مولانا مولوی عبید اللہ مالیر کوٹلوی المعروف "مولوی پنڈت"کی لکھی ہوئی تھی۔ اس میں ہندوؤں کے عقائد کی کمزوری دلائل سے واضح کی گئی تھی۔ حضرت سندھیؒ خود تحریر فرماتے ہیں:

"میں نے اس کتاب کا مطالعہ بڑی پابندی سے کیا۔ یہاں تک کہ میں اسے اچھی طرح سمجھ گیا، بلکہ اسے حفظ کر لیا۔ اس کتاب کی بدولت اللہ تعالیٰ نے مجھے عقائد ِاسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔"
📖 "تقویۃُ الإیمان" سے ایمان کی مضبوطی

اس کے بعد تین سال تک خفیہ طور پر نماز روزہ اور شریعت کی ابتدائی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ اسی دوران حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے پوتے حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب "تقویۃُ الإیمان" پڑھی۔ اس سے اسلام کے عقائد مزید پختہ ہوگئے۔ اسی دوران رمضان ۱۳۰۴ھ / ۱۸۸۷ء کے کچھ روزے بھی رکھے، لیکن گھر والوں کی سختی کی وجہ سے اس رمضان کے باقی روزے ترک کرنا پڑے۔

🕋 اظہار اسلام اور "عبیداللہ" نام

۲۴؍ ذی قعدہ ۱۳۰۴ھ / ۱۵اگست ۱۸۸۷ء کو، جب کہ آپؒ مڈل کلاس کی تیسری جماعت میں پڑھتے تھے، اظہارِ اسلام کے لیے اپنے وطن سے نکلے اور "کوٹلہ رحم شاہ" ضلع مظفر گڑھ جا پہنچے۔ ۹؍ ذی الحج۱۳۰۴ھ / ۲۹اگست ۱۸۸۷ء کو سنت ِتطہیر ادا ہوئی۔ اس کے چند روز بعد آپؒ کے رشتہ دار آپؒ کا تعاقب کرنے لگے، تو سندھ میں جاکر اسلام کا اعلان کیا۔ کتاب "تُحفۃُ الہِند" کے مصنف (مولانا عبیداللہ) کے نام پر آپ ؒنے اپنا نام "عبیداللہ" پہلے ہی رکھ لیا تھا۔ اسی دوران عربی صرف و نحو کی کتابیں ایک طالب علم سے پڑھنا شروع کردیں۔

🤲 راشدیہ قادریہ میں بیعت

صفر ۱۳۰۵ھ / ۱۸۸۸ء میں سید العارفین شیخ المشائخ حضرت حافظ محمد صدیقؒ آف بھرچونڈی شریف (سندھ) کے ہاتھ پر بیعت کی۔ انھوں نے کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ وہ مشہور سلسلۂ طریقت "راشدیہ قادریہ" کے امام تھے۔ انھوں نے حضرت مولانا شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ کی صحبت و رفاقت میں کچھ عرصہ گزارا تھا۔ جب وہ ہندوستان سے بالاکوٹ کی طرف جاتے ہوئے "پیرجوگوٹھ" سندھ میں اُن کے پیر حضرت پیر صبغت اللہ شاہ راشدیؒ (اوّل) کے پاس قیام فرما ہوئے تھے۔

🕋 ذکر و اذکار کی مجالس

مولانا سندھیؒ نے سید العارفین حضرت حافظ محمد صدیق صاحبؒ کے پاس تقریباً دوماہ قیام کیا، اور اُن کی مجالس اور حلقۂ ذکر میں بڑی پابندی سے شریک رہے۔ اور حضرتؒ کی توجہ بھی آپؒ کی طرف انتہا درجہ رہی۔ اس دوران اُن کی صحبت میں رہ کر آپؒ کی توجہ اور محبت سے خوب فائدہ اُٹھایا۔ انھوں نے حضرت سندھیؒ کو اپنا بیٹا بنا کر توجۂ باطنی ڈالی۔ اس اجتماعِ صالح کی برکت سے مولانا سندھیؒ کے قلب میں معاشرتِ اسلامیہ راسخ ہوگئی۔ انھوں نے آپؒ کے لیے یہ دعا بھی کی کہ: "خدا کرے عبید اللہ کا کسی راسخ عالم سے پالہ پڑجائے۔" یہ اسی دعا کا اثر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کی خدمت میں دیوبند پہنچا دیا۔

📖 درس نظامی کا آغاز

ربیع الثانی ۱۳۰۵ھ / ۱۸۸۷ء میں سیّد العارفین کے خلیفہ اوّل حضرت مولانا ابوالسراج غلام محمد دین پوریؒ کے پاس دین پور نزد خان پور (پنجاب) تشریف لے آئے۔ چھ ماہ تک یہاں قیام کیا اور "ہِدایۃُ النّحو" تک کی عربی صرف و نحو کی کتابیں یہیں مولانا عبد القادر سے پڑھیں۔ حضرت خلیفہ صاحب نے ان کی والدہ کو خط لکھوایا۔ وہ آگئیں اور آپؒ کو جام پور واپس لے جانے کے لیے بڑا زور لگایا، مگر مولانا سندھیؒ ثابت قدم رہے اور والدہ کے ساتھ نہیں گئے۔

شوال ۱۳۰۵ھ / جون ۱۸۸۸ء دین پور سے "کوٹلہ رحم شاہ" ضلع مظفر گڑھ چلے آئے، اور مولانا خدا بخش صاحب سے نحو کی مشہور کتاب "کافیہ" پڑھی۔

🏫 دارالعلوم دیوبند میں تعلیم

صفر ۱۳۰۶ھ / اکتوبر ۱۸۸۸ء میں دار العلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور پانچ چھ مہینے تک "قُطبی" تک منطق اور فلسفے کے رسائل، متفرق اساتذہ سے پڑھتے رہے۔ ایک فاضل استاذ سے عربی کتابوں کے مطالعے کا صحیح طریقہ سیکھ لیااور ذاتی محنت سے علوم میں ترقی کا راستہ کھلتا چلا گیا۔ اس سال کے باقی کچھ مہینے "رام پور" میں مولانا احمد حسن کان پوریؒ (شاگرد حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ) کے مدرسے میں رہ کر منطق اور فلسفے کی اعلیٰ کتابیں مکمل کیں۔

صفر ۱۳۰۷ھ / اکتوبر ۱۸۸۹ء میں دوبارہ دیوبند تشریف لائے اور ابتدائی دو تین ماہ مولانا حافظ احمد صاحب مہتمم دار العلوم دیوبند سے اصولِ فقہ اور علمِ کلام کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اور فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابیں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ سے پڑھیں۔ شعبان ۱۳۰۷ھ / اپریل ۱۸۹۰ء میں سالانہ امتحان میں شریک ہوئے اور اپنی کلاس میں اوّل آئے۔ سالانہ امتحان میں مولانا سید احمد دہلویؒ مدرس اوّل دارالعلوم دیوبند نے حضرت سندھیؒ کے جوابات کی بڑی تعریف کی اور یہ فرمایا:

"اگر اس کو کتابیں ملیں تو یہ شاہ عبد العزیز ثانی ہوگا۔"
✨ مبشرات مبارکہ

اسی دوران حضرت سندھیؒ نے بہت اچھے خواب دیکھے۔ چناںچہ آپؒ نے خواب میں امامِ اعظم امام ابو حنیفہؒ کی زیارت کی اور پھر کچھ عرصے بعد خواب میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا۔

✍️ تصنیف و تالیف کا آغاز

رمضان ۱۳۰۷ھ / اپریل ۱۸۹۰ء میں "اصولِ فقہ" پر آپؒ نے ایک رسالہ لکھا، اس کا نام "مَراصِدُ الوُصولِ إلٰی مَقاصِدِ الاُصول" رکھا۔ اپنے استاذ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کے سامنے یہ رسالہ پیش کیا تو آپؒ نے اسے بڑا پسند فرمایا۔ اس رسالے میں "متشابہات" کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ "راسخین فی العلم" (علم میں رسوخ رکھنے والے حضرات) اپنے وہبی علم کے ذریعے ان کی تأویل اور تفہیم جانتے ہیں۔

🎓 دارالعلوم دیوبند سے فراغت

شوال ۱۳۰۷ھ / مئی ۱۸۹۰ء میں دار العلوم دیوبند میں کتاب "تفسیر بیضاوی" پڑھی اور ۱۳۰۸ھ / ۱۸۹۰ء میں دورۂ حدیث کی تمام کتابوں میں شریک ہوئے۔ "جامع ترمذی" حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ سے پڑھی۔ اسی دوران حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی تمام کتابیں ازخود مطالعہ کیں اور حضرت شیخ الہندؒ سے انھیں خوب اچھی طرح سمجھا۔

🕋 حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ کی خدمت میں

۱۳۰۸ھ / ۱۸۹۰ء میں ہی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے "گنگوہ" جاکر "سُنن ابوداوٗد" پڑھی۔ مولانا سندھیؒ خود تحریر فرماتے ہیں:

"میں نے حضرت شیخ الاسلام (گنگوہیؒ) سے "سنن ابو داؤد" کا ایک بڑا حصہ انتہائی فقہی تحقیق کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس طرح تحقیقی نقطۂ نگاہ سے ان سے پڑھنے سے مجھے بڑا نفع ہوا۔ میں نے آپؒ سے بہت زیادہ نفع اٹھایا اور یہ انھی کی صحبت کا میرے دل پر اثر ہے کہ اِس نے مجھے ہر طرح کے مشکل حالات میں اپنے نظریات تبدیل کرنے سے روکے رکھا۔ یہ انھی کی صحبت کا اثر ہے کہ ولی اللّٰہی طریقہ روشن ہوکر میرے سامنے آگیا۔ اس طرح میں نے فقہ کے اہم مقامات، سلوک و طریقت کے بنیادی قاعدے، عربی زبان اور کتاب و سنت کی اصولی اور معقولی مباحث کو صحیح طور پر سمجھ لیا۔ میں نے اپنی ان آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے کہ آپؒ بلاشبہ مذہب ِامام ابوحنیفہؒ کے مجتہد اور ماہر امام تھے۔ بلاشبہ ہمارے شیخ (گنگوہیؒ) اپنے شیخ حضرت شاہ عبدالغنی مجددی دہلویؒ کے طریقے پر استقامت کا پہاڑ تھے۔ آپؒ ولی اللّٰہی تھے اور صدرالحمید حضرت شاہ محمداسحاق دہلویؒ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔"
🏥 دہلی میں علاج اور سندھ واپسی

ربیع الثانی ۱۳۰۸ھ / نومبر ۱۸۹۰ء میں بیمار ہوگئے اور علاج کے لیے دہلی تشریف لے گئے۔ حضرت شیخ الہندؒ کی سفارش سے حکیم محمود خان سے علاج کروایا، جس سے بہت افاقہ ہوا۔ اسی دوران حکیم صاحب کے کتب خانے میں موجود بہت سی کتابیں مطالعہ کیں۔ صحت مند ہونے کے بعد حضرت شیخ الہند کی اجازت سے دہلی سے سیدھا سندھ تشریف لے آئے۔ رجب ۱۳۰۸ھ / فروری ۱۸۹۱ء میں حضرت شیخ الہندؒ نے درس و تدریس کا اجازت نامہ تحریر فرماکر روانہ کردیا۔

🕌 بھرچونڈی شریف آمد

۲۰؍ جمادی الثانیہ ۱۳۰۸ھ / فروری ۱۸۹۱ء کو دہلی سے سیدھا سندھ میں "بھرچونڈی شریف" پہنچے۔ آپؒ کے پیر و مرشد حضرت سید العارفین حافظ محمدصدیق ؒآپ کے آنے سے ۱۰ دن پہلے وفات پا چکے تھے۔ رمضان ۱۳۰۸ھ / اپریل ۱۸۹۱ء تک آپؒ نے بھرچونڈی شریف میں قیام کیا اور اس دوران مولوی کمال الدین نے آپؒ سے "سُنن ابوداؤد" پڑھی۔

🌴 امروٹ شریف میں قیام

شوال ۱۳۰۸ھ / مئی ۱۸۹۱ء سے سید العارفین حافظ محمدصدیق ؒکے دوسرے خلیفہ مولانا ابوالحسن تاج محمود امروٹیؒ کے پاس "اِمروٹ" ضلع سکھر (سندھ) تشریف لے گئے۔ انھوں نے آپؒ کی شادی کرائی۔ ۱۳۱۵ھ / ۱۸۹۷ء تک سات سال امروٹ شریف میں کتب ِ حدیث، تفسیر اور اس کے تمام متعلقات کی درس و تدریس اور مطالعۂ کتب میں مصروف رہے۔ اور اس دوران سندھ سے تعلق رکھنے والے اہل علم کی بہت بڑی جماعت نے آپؒ سے تعلیم حاصل کی۔

ان سات سالوں میں مولانا سندھیؒ نے تفسیر قرآن کے حوالے سے امام ولی اللہ دہلویؒ کی کتابیں "فتح الرّحمٰن بترجمۃ القُرآن"، "الفوز الکبیر فی اصول التفسیر" بڑی توجہ سے پڑھائیں۔ آیاتِ قرآنیہ کا ربط اور پھر سورتوں کے ابواب اور فصول مقرر کرنے کا کام کیا۔ علم حدیث اور فقہ کی تفہیم کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتابیں "حجّۃ اللّٰہ البالغہ"، "المسوّٰی فی احادیث المؤطّا"، علم تاریخ و سیاست کی تفہیم کے لیے "إزالۃُ الخِفاء عن خِلافۃ الخُلَفاء" پڑھائیں۔ اسی طرح شاہ عبدالعزیز دہلویؒ، مولاناشاہ محمداسماعیل شہیدؒ اور مولانا محمدقاسم نانوتویؒ کی کتابوں کے منتخب مقالات بڑی پابندی سے طلبا کو پڑھائے۔ اس طرح آپؒ کو ان سات سالوں میں ولی اللّٰہی طریقے پر تعلیم و تدریس میں بڑا ملکہ پیدا ہوگیا۔

📝 امروٹ میں تصانیف

اِمروٹ میں اپنے قیام کے دوران آپؒ نے درجِ ذیل کتابیں تصنیف فرمائیں:

۱تعلیق علٰی معانی الآثار للإمام الطحاوی
علم حدیث پر امام طحاویؒ کی کتاب پر تعلیق و حواشی
۲تعلیق علٰی فتح القدیر لمحقق ابن الہمّام
علم فقہ پر محقق ابن ہمامؒ کی کتاب پر تعلیق و حواشی
۳فتح السّلام فی شرح بلوغ المرام
"فتح السلام" کے نام سے "بلوغ المرام" کی شرح
۴شرح سفر السعادۃ للفیروز آبادی
علامہ فیروزآبادیؒ کی کتاب "سفر السعادۃ" کی شرح
۵تخریج مافی الباب للامام الترمذی
جامع ترمذی میں "ما فی الباب" کے عنوان سے بیان کردہ تمام احادیث کی تخریج
۶تخریج احادیث غنیۃ الطالبین للشیخ عبد القادر جیلانی
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی کتاب میں بیان کردہ احادیث کی تخریج
۷ازالۃ الشبہ عن فرضیۃ الجمعۃ
جمعہ کی فرضیت کے سلسلے میں چند شبہات کے ازالے کے لیے لکھا گیا مستقل رسالہ
۸تہذیب رفع الیدین للإمام البخاری
امام بخاریؒ کے رسالے "رفع الیدین" کی تہذیب و ترتیب جدید
۹تنسیق احادیث بدء الوحی من الجامع الصحیح
امام بخاری کی کتاب کے "باب بدء الوحی" کی احادیث میں ربط و تعلق پر رسالہ
۱۰سندھی ترجمہ قرآن حکیم میں معاونت
حضرت مولانا تاج محمود امروٹیؒ کے سندھی ترجمہ قرآن میں معاون کے طور پر کام
🏢 "مطبع محمودیہ" کا قیام

اِمروٹ شریف میں قیام کے دوران نشر و اشاعت کا ایک ادارہ "مطبع محمودیہ" قائم کیا۔ اپنے اس مطبع سے سندھی زبان میں ایک ماہنامہ "ہدایت الإخوان" کے نام سے شروع کیا۔ اسی مطبع کی جانب سے امام طحاویؒ کی کتاب "العقیدۃ للإمام الطحاوی" شائع کی۔

🤲 حضرت دین پوریؒ اور حضرت امروٹیؒ سے اجازت و خلافت

امروٹ شریف میں اس قیام کے دوران طریقۂ راشدیہ مجددیہ میں آپؒ نے سلوک و احسان کی منازل بھی طے کیں۔ اس کی تکمیل پر حضرت مولانا تاج محمود امروٹیؒ اور حضرت مولانا ابوالسراج غلام محمد دین پوریؒ نے آپؒ کو اجازت و خلافت عنایت فرمائی اور متعلقین کو طریقت کی تلقین کا حکم فرمایا۔ اسی طرح بعد میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ نے اپنے سلسلۂ چشتیہ، بلکہ تمام سلاسل کی اجازت بھی مرحمت فرمائی۔

🏫 حضرت شیخ الہندؒ کے حکم سے "دارالرشاد" کا قیام

رمضان ۱۳۱۵ھ / نومبر ۱۸۹۷ء کو آپؒ دیوبند تشریف لائے اور حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کی صحبت اُٹھائی اور حضرت کی خدمت میں اپنی تصانیف پیش کیں۔ حضرت شیخ الہندؒ نے انھیں بہت پسند فرمایا۔ اسی موقع پر حضرت شیخ الہندؒ نے سیاسی کام کرنے کا حکم دیا اور اُس کے لیے دار العلوم دیوبند کے طرز پر سندھ میں ایک مدرسہ "دارالرشاد" قائم کرنے کا حکم فرمایا۔

شوال ۱۳۱۹ھ / ۱۹۰۱ء کو آپؒ نے حیدر آباد سندھ کے قریب "گوٹھ پیرجھنڈا" میں ایک دینی مرکز "دار الرشاد" کے نام سے قائم کیا۔ اس مرکز میں بیٹھ کر آپؒ نے سات سال تک علمی اور سیاسی کام سرانجام دیے اور انقلابی نظریے پر علما تیار کیے۔ اس دینی مرکز میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور مولانا شیخ حسین بن محسن انصاری یمانیؒ بھی تشریف لائے۔ تعلیم و تربیت کے حوالے سے پورے نظامِ تعلیم کا جائزہ لیا اور اطمینان کا اظہار کیا۔ دارالرشاد میں قیام کے دوران آپؒ نے خواب میں امام مالکؒ کی زیارت کی نیز خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔

🤝 دارالعلوم دیوبند میں آمد اور "جمعیت الانصار" کا قیام

رمضان ۱۳۲۷ھ / ۱۹۰۹ء میں حضرت شیخ الہندؒ کے حکم سے آپؒ سندھ سے مستقل طور پر دیوبند تشریف لے آئے۔ ۲۷؍ رمضان ۱۳۲۷ھ / ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۰۹ء کو آپؒ نے حضرت شیخ الہندؒ کی زیرسرپرستی "جمعیۃ الأنصار" قائم کی۔ آپؒ اس کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اس کے تحت آپؒ نے دارالعلوم دیوبند کے گزشتہ چالیس سال کے فاضلین کی تعلیم و تربیت کا نظام قائم کیا۔ نیز عوام میں تحریک ِحریت پیدا کرنے کے لیے اجلاس ہائے عام اور اجتماعات منعقد کیے۔ حضرت شیخ الہندؒ کے حکم کے مطابق چار سال تک اس میں آپؒ نے بڑی محنت اور جدوجہد سے کام کیا۔

🏛️ دیوبند سے دہلی اور "نظارۃ المعارف القرآنیہ" کا قیام

۱۹۱۲ء میں جب حکومت برطانیہ نے اپنا دار الحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل کرلیا اور دہلی ہندوستان کی سیاسیات کا نیا مرکز بن گیا تو حضرت شیخ الہندؒ نے حضرت سندھیؒ کو دیوبند سے دہلی بھیج دیا۔ چناںچہ ۱۳۳۱ھ / ۱۹۱۳ء کو آپؒ نے مسجد فتح پوری چاندنی چوک دہلی میں "نظارۃ المعارف القرآنیہ" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کی سرپرستی حضرت شیخ الہندؒ، حکیم اجمل خان اور نواب وقار الملک نے کی۔ اس ادارے میں حضرت سندھیؒ نے قرآن حکیم کی تفسیر "الفوز الکبیر" کے اصولوں کی روشنی میں فن اعتبار کے تناظر میں پڑھانا شروع کی۔ اور "حُجَّۃُ اللّٰہِ البالِغہ" کا درس سیاسیاتِ حاضرہ کو سامنے رکھ کر دینا شروع کیا۔ دہلی کے اس قیام میں حضرت شیخ الہندؒ نے آپؒ کا تعارف ڈاکٹر مختار احمد انصاریؒ، مولانا ابو الکلام آزادؒ اور مولانا محمد علی جوہرؒ سے کرایا۔

✈️ دہلی سے کابل روانگی

جمادیٰ الثانیہ ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء میں آپؒ حضرت شیخ الہندؒ کے حکم سے کابل افغانستان جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ اور انگریز جاسوسوں سے بچنے کے لیے چار مہینے تک سندھ میں سفر کی خفیہ تیاری کرتے رہے۔ ۳؍ شوال ۱۳۳۳ھ / ۱۵اگست ۱۹۱۵ء کو سندھ سے قندھار کے لیے روانہ ہوئے۔ کوئٹہ بلوچستان ہوتے ہوئے ذی الحج ۱۳۳۳ھ / اکتوبر ۱۹۱۵ء کے پہلے عشرے میں کابل پہنچے۔ آپؒ سات سال تک کابل میں قیام پذیر رہے۔

⚔️ "جنود اللّٰہ الربانیہ" کا قیام

اس دوران آپؒ نے "جنود اللّٰہ الربانیہ" کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔ یہ جماعت ہندوستان اور افغانستان کی آزادی کے لیے جدوجہد اور کوشش کرتی رہی۔ نیز اس جماعت نے جنگِ عظیم اول کے اختتام کے بعد افغانستان کی حکومت کے اہلکاروں کی تربیت کے لیے بھی کام کیا۔ اس کا کام یہ تھا کہ جمہوری اصولوں پر خلافت ِاسلامیہ چلانے کی اہلیت اُن میں پیدا کی جائے۔ تمام مسلمان جماعتوں کو اقتصادیات، سیاسیات اور علوم و افکار کی تعلیم و تربیت دینا بھی اس کے مقاصد میں شامل تھا۔

🏛️ کابل میں عبوری حکومت ہند کا قیام

۱۳۳۴ھ / ۱۹۱۶ء میں آپؒ نے ہندوستان کے لیے کابل میں "عبوری حکومت ہند" قائم کی۔ آپؒ اس حکومت کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ ۱۹۲۲ء میں آپؒ نے "کانگریس کمیٹی کابل" بنائی اور اس کے صدر مقرر ہوئے۔ اس کمیٹی کا الحاق نیشنل کانگریس آف انڈیا نے اپنے اجلاس منعقدہ "گیا" میں منظور کیا۔

🇷🇺 کابل سے روس

۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۲ء میں کابل سے خفیہ طور پر ترکی جانے کے لیے براستہ روس روانہ ہوئے۔ اس دوران ماسکو میں سات ماہ قیام فرمایا۔ چوںکہ نیشنل کانگریس آف انڈیا سے تعلق سرکاری طور پر ثابت ہوچکا تھا، اس لیے سوویت روس نے اپنا مہمان بنایا اور روسی انقلاب کے مطالعے کے لیے ہر قسم کی سہولتیں بہم پہنچائیں۔ مولانا سندھیؒ لکھتے ہیں:

"میرے اس مطالعے کا نتیجہ ہے کہ میں اپنی دینی تحریک کو، جو امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفے کی ایک شاخ ہے، اُس زمانے کے لادینی حملے سے محفوظ کرنے کے لیے تدابیر سوچنے میں کامیاب ہوا۔"
🇹🇷 ترکی میں قیام

۱۳۴۱ھ /۱۹۲۳ء میں آپؒ انقرہ، ترکی پہنچے۔ یہاں چار ماہ قیام فرمایا۔ ترکی میں قیام کے دوران عصمت پاشا، رؤف بِک وغیرہ انقلابی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ نیز مصر کے مشائخ میں سے شیخ عبد العزیز جاویشؒ سے بھی ملاقاتیں رہیں۔ اس کے بعد ترکی کے دارالحکومت استنبول تشریف لے گئے اور تین سال وہاں قیام فرمایا۔ اس دوران یورپ کی تاریخ کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ فرمایا۔ خاص طور پر خلافت ِعثمانیہ، اس کے ادارے، قومی جمہوری تحریکات، برطانوی ترقیات اور فرانسیسی انقلاب کا مطالعہ کیا۔

📜 "آزاد برصغیر کا دستوری خاکہ" کی تیاری

۱۵؍ستمبر ۱۹۲۴ء کو آپؒ نے استنبول سے ہی ہندوستان کے مستقبل کے سیاسی اور معاشی اُمور حل کرنے کے لیے "آزاد برصغیر کا دستوری خاکہ" کے عنوان سے ایک سیاسی منشور جاری فرمایا۔ جس میں عوامی جمہوری نقطہ نظر سے ہندوستان میں غیرسرمایہ دارانہ نظامِ معیشت و حکومت قائم کرنے کے خدوخال کی نشان دہی کی۔

🕋 مکہ مکرمہ کا سفر

۱۳۴۴ھ / جون ۱۹۲۶ء میں مکہ مکرمہ میں موسم حج کے موقع پر "المؤتمر الاسلامی" کا اجلاس منعقد کیا جا رہا تھا۔ آپؒ ترکی میں تین سال قیام کے بعد مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے اس عالمی اجتماع میں شرکت کے لیے آنا چاہتے تھے۔ چوںکہ براہِ راست آنے میں خطرات تھے، اس لیے آپؒ استنبول سے اٹلی اور پھر سوئٹزرلینڈ تشریف لے گئے۔ یہاں پر کچھ عرصہ قیام کرکے جدید اٹلی اور یورپ کی سیاسیات کا مطالعہ کیا۔ پھر افریقا کے ساحل پر اٹلی کے نوآبادیاتی شہر "مصوّع" آئے۔

صفر ۱۳۴۵ھ / اگست ۱۹۲۶ء میں "مصوّع" سے روانہ ہوکر مکۃ المکرمہ تشریف لائے۔

📖 حرم مکی میں درس و تدریس

مکۃ المکرمہ میں قیام کے دوران آپؒ نے مسجد حرام میں درس و تدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ حرمِ مکی کے علما نے آپؒ سے درجِ ذیل کتابیں پڑھیں:

۱مؤطّا إمام مالک
۲مؤطّا إمام محمّد
۳الرّسالۃ للإمام الشّافعی
۴مسوّیٰ من أحادیث المؤطّا
۵الفوز الکبیر للإمام شاہ ولی اللّٰہ دہلویؒ
۶اصول الفقہ للإمام محمّد إسماعیل شہیدؒ
۷شرح النُّخبۃ لابن حجر
۸مقدمہ صحیح مسلم
۹کتاب العلل
۱۰جامع ترمذی

اسی طرح امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتابیں: "فتح الرّحمٰن"، "فیوض الحرمین"، "إزالۃ الخفاء" اور حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتابیں: "صراطِ مستقیم"، "منصبِ امامت"، "عبقات"، "تقویۃ الإیمان" اور حضرت نانوتویؒ کی کتابیں بھی علما اور طلبا کو آپؒ نے پڑھائیں۔ آپؒ خود لکھتے ہیں:

"میں تقریباً تیرہ چودہ سال سے "قرآن عظیم" اور "حجۃ اللّٰہ البالغہ" کا بہ نظرِ عمیق مطالعہ کرتا رہا، تفسیر قرآن میں جس قدر مقامات میرے لیے مشکل تھے، حرم کے قیام کے زمانے میں مَیں نے انھیں امام ولی اللہ دہلویؒ کے اصول پر بالاطمینان حل کرلیا۔ مجھے اپنے اصول پر قرآن عظیم میں اس (موجودہ) زمانے میں قابل عمل تعلیم کا ایک اعلیٰ نصاب نظر آیا۔ اس میں اس تجلی ریز مقدس مقام کی تأثیر ضرور ماننا پڑتی ہے۔ میں نے امام ولی اللہ دہلویؒ کی مشہور کتابوں کا خاص طور پر مطالعہ جاری رکھا۔ مثلاً "بدورِ بازغہ"، "خیر کثیر"، "تفہیماتِ الٰہیہ"، "سطعات"، "لمحات"، "الطاف القدس" وغیرہ۔ ان کتابوں کے لیے بہ طورِ مفتاح میں نے مولانا شاہ رفیع الدین دہلویؒ کی "تکمیل الأذہان" اور مولانا اسماعیل شہیدؒ کی "عبقات" اور مولانا محمد قاسم (نانوتویؒ) کی "قاسم العلوم" (مکتوبات)، "تقریر دلپذیر" اور "آبِ حیات" سے استفادہ کیا۔ مجھے ان کتابوں کے پڑھانے کا بھی موقع ملتا رہا اور ساتھ ہی قرآن عظیم کی درس و تدریس کا کام بھی جاری رہا۔ اس سے میرے نظریات بہت وسیع ہوگئے۔ لِلّٰہِ الْحَمْد"
📘 "التّمہید لتعریف ائمّۃ التّجدید" کی تصنیف

حرم شریف میں قیام کے دوران مکہ مکرمہ میں آپؒ نے ولی اللّٰہی سلسلے کے علما کے تجدیدی کام، ان کے تاریخی تسلسل اور سلسلہ ہائے اسناد کے تعارف کے لیے عربی زبان میں ایک بڑی اہم کتاب لکھی۔ اس کتاب کا نام "التّمہید لتعریف ائمّۃ التّجدید" ہے۔ بڑے سائز کے تقریباً پانچ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب چار پُرمغز مقالوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی تصنیف و تالیف کا کام آپ نے ۸؍ رجب ۱۳۴۹ھ / ۲۹نومبر ۱۹۳۰ء کو مکمل کیا۔

📖 "الہام الرّحمٰن فی تفسیر القرآن" کا املا

حرم شریف میں قیام کے دوران آپؒ نے روس کے مشہور عالم دین علامہ موسیٰ جاراللہؒ کو قرآن حکیم کی مکمل تفسیر پڑھائی۔ انھوں نے اسے بڑے اہتمام کے ساتھ قلم بند کیا۔ ۱۸؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۵۶ھ / ۲۶جولائی ۱۹۳۷ء بروز پیر سے شروع کر کے ۱۳؍ ذی قعد ۱۳۵۶ھ / ۱۳جنوری ۱۹۳۸ء تک روزانہ صبح طلوعِ آفتاب سے لے کر ظہر یا عصر تک آپؒ نے یہ تفسیر لکھوائی۔ اس طرح تقریباً چھ ماہ میں مکمل تفسیر قرآن کا املا پورا ہوا۔ یہ تفسیر ابھی تک قلمی مخطوطے کی شکل میں تین جلدوں میں محفوظ ہے۔ اس کی ابتدائی چند سورتیں مولانا غلام مصطفی قاسمیؒ نے "الہام الرّحمٰن فی تفسیر القرآن" کے نام سے شائع کی ہیں۔ علامہ موسیٰ جاراللہؒ نے حضرت سندھیؒ سے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اکثر کتابیں بھی اس دوران پڑھیں۔

🇮🇳 واپس ہندوستان آمد

۱۹۳۶ء میں ہندوستان کی سیاسی جماعتوں خاص طور پر انڈین نیشنل کانگریس، جمعیت علمائے ہند اور ہندوستان کی سربر آوردہ شخصیات، مثلاً مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مولانا غلام رسول مہرؒ وغیرہ نے حضرت سندھیؒ کی ہندوستان واپسی کے لیے کوششیں شروع کیں۔ انھی حضرات کی کوششوں کا نتیجہ ہوا کہ مولانا سندھیؒ کو یکم نومبر۱۹۳۸ء کو ہندوستان واپسی کی اجازت کی اطلاع ملی۔ یکم جنوری ۱۹۳۹ء کو ہندوستان آمد کے لیے آپؒ کو پاسپورٹ دیا گیا۔ حج کا موسم قریب آگیا تھا، اس لیے حج ادا کر کے آپؒ ہندوستان واپس تشریف لائے۔

۱۴؍ محرم ۱۳۵۸ھ / ۷مارچ ۱۹۳۹ء کو آپؒ کراچی کی بندرگاہ پر اُترے۔ حکومت ِسندھ کے وزیر اعظم اللہ بخش سومرو نے عمائدین شہر اور اپنے وزرا کے ساتھ آپؒ کا شان دار استقبال کیا۔ ہندوستان میں کراچی ساحل پر اُترتے ہی آپؒ نے دین کی اساس پر انقلابی فکر وعمل کی اہمیت کے حوالے سے ایک معرکہ آرا خطاب ارشاد فرمایا، جو آپؒ کے خطبات و مقالات کے مجموعے میں طبع شدہ ہے۔

۱۶؍ ربیع الثانی ۱۳۵۸ھ / ۳جون ۱۹۳۹ء کو اپنی واپسی کے بعد "جمعیت علمائے صوبہ بنگال" کے اجتماع منعقدہ کلکتہ میں آپؒ کو صدرِ اجلاس منتخب کیا گیا۔ اس اجلاس میں آپؒ نے ہندوستان آمد کے بعد اپنا پہلا خطبۂ صدارت پڑھا۔ آپؒ کی واپسی کے بعد پورے ملک میں آپؒ کا زبردست استقبال ہوا۔ جمعیت علمائے ہند، مجلس احرارِ اسلام وغیرہ اور تمام سیاسی وغیرسیاسی جماعتوں نے آپؒ کے اعزاز میں تہنیّتی اجتماعات منعقد کیے، جن میں آپؒ کی خدمات کو شان دار خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

📝 اہم "خطبات و مقالات" کی تصنیف و تالیف

۲۵؍ اکتوبر ۱۹۴۱ء کو آپؒ نے ایک اہم مقالہ "شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی سیاسی تحریک" کے عنوان سے خود اپنے قلم سے تحریر فرمایا۔ آپؒ نے اِسے اپنے عزیز ترین شاگرد اور اورنٹیل کالج لاہور کے پروفیسر مولانا نورالحق علوی کو پڑھایا اور اس کے مشکل مقامات سمجھائے۔ اس کے نتیجے میں مولانا نور الحق علویؒ نے اس مقالے پر حواشی لکھے۔ یہ مقالہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۴۱ء کو سندھ ساگر اکیڈمی لاہور سے طبع ہوا۔ پھر پروفیسر محمد سرور مرحوم نے کالج کے نوجوانوں کے لیے مولانا علویؒ کے عربی اور فارسی میں لکھے ہوئے حواشی کا اُردو ترجمہ کیا اور اصل مقالے کے ساتھ ملا کر "شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک" کے عنوان سے دوسری مرتبہ جنوری ۱۹۴۴ء میں لاہور سے شائع کیا۔

ذوقعدہ ۱۳۵۹ھ / دسمبر ۱۹۴۰ء میں ماہنامہ "الفرقان" کے شاہ ولی اللہ نمبر کے لیے مولانا سندھیؒ نے "امام ولی اللہ دہلویؒ کی حکمت کا اجمالی تعارف" کے عنوان سے ایک پُرمغز مقالہ تحریر اور املا کروایا۔ اس مقالے کو بھی مولانا نور الحق علوی، پروفیسر اورنٹیل کالج لاہور نے قلم بند کیا اور اس کے حواشی و حوالہ جات عربی اور فارسی کی کتب سے لکھے۔ پروفیسر محمد سرور مرحوم نے "الفرقان" میں طبع شدہ اس مقالے کو عربی اور فارسی حواشی کا اردو ترجمہ کر کے "شاہ ولی اللہؒ اور ان کا فلسفہ" کے عنوان سے مئی ۱۹۴۴ء میں لاہور سے شائع کیا۔ یہ مقالہ پڑھ کر مولانا سیّد سلیمان ندویؒ نے مدیر "الفرقان" کو لکھا تھا:

"مولانا سندھیؒ کے مضمون کو میں نے بغور پڑھا اور اس یقین کے ساتھ ختم کیا کہ بے شک مولانا کی نظر حضرت شاہ ولی اللہ (دہلویؒ) کے فلسفے اور نظریات پر نہایت وسیع اور عمیق ہے۔"

اسی طرح مدیر "الفرقان" مولانا محمد منظور نعمانی نے یہ مقالہ پڑھ کر لکھا تھا:

"چند مقامات میں تعبیر کی غرابت اور نکارت اور ایک آدھ جگہ مولانا کی منفرد رائے سے قطع نظر یہ مقالہ شاہ صاحب کی حکمت کا اجمالی تعارف ہی نہیں، بلکہ فی الحقیقت آپؒ کے علمی کام سے واقفیت اور علیٰ وجہ البصیرت واقفیت کے لیے اس میں کافی سامان ہے۔ ولی اللّٰہی علوم و معارف کے لیے بجا طور پر اس مقالہ کو بنیادی لٹریچر قرار دیا جاسکتا ہے۔"

اس دوران آپؒ نے بہت سے مقالات اور خطبہ ہائے صدارت لکھے۔ آخری تحریر اپنے انتقال سے بیس روز پہلے "محمد قاسم ولی اللہ تھیالوجیکل سکول"، شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ کے لیے ۲اگست ۱۹۴۴ء کو "خطبۂ اِفتتاح" کے عنوان سے لکھی، یہ مولانا سندھیؒ کی آخری تحریر تھی۔ مولانا سندھیؒ کے چند "خطبات ومقالات" سب سے پہلے پروفیسر محمدسرور مرحوم نے مرتب کرکے شائع کیے تھے۔ پھر راقم الحروف نے تمام دستیاب مقالات و خطبات جمع کیے، جو "خطبات و مقالات مولانا عبیداللہ سندھیؒ" کے عنوان سے ستمبر ۲۰۰۲ء میں ضخیم کتاب کی شکل میں شائع ہوچکے ہیں۔

📖 قرآنی سورتوں کی انقلابی تشریح

رجب ۱۳۵۳ھ / جولائی ۱۹۴۴ء میں بیماری کے باوجود حضرت سندھیؒ کراچی سے حیدر آباد، میر پور خاص اور نواب شاہ ہوتے ہوئے گوٹھ پیر جھنڈا میں تشریف لائے۔ اور مدرسہ دار الرشاد میں قیام فرما ہوئے۔ اس موقع پر مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ، مولانا سندھیؒ کی بیان کردہ سورتِ مزمل اور سورتِ مدثر کی تفسیر "قرآنی دستورِ انقلاب" کے عنوان سے مرتب کرکے حضرت سندھیؒ کو دکھانے اور اس کی تصحیح کرانے کے لیے لائے۔ مولانا دین محمد وفائی لکھتے ہیں:

"دار الرشاد میں حضرت امام سندھیؒ کے ایک شاگرد مولوی بشیر احمد صاحب بی۔اے لدھیانویؒ قیام پذیرتھے۔ حضرت امام سندھیؒ نے ان سے سورۃ مزمل اور سورۃ مدثر کی تفسیر سُنی۔ جو کہ وہ کتابی صورت میں کتاب "(قرآنی دستور) الانقلاب" کے نام سے مرتب کر کے لائے تھے۔ مولوی بشیراحمد (لدھیانوی) نے حضرت امام سندھیؒ کی خدمت میں (یہ کتاب) پیش کی اور اس کی تصحیح کروائی۔ دوسرے روز صبح کے وقت حضرت امام سندھیؒ نے قرآن شریف کا درس دیا۔ وہ آیات زیر درس آئیں، جن میں مکہ شریف کو قرآنی انقلاب کا مرکز بنانے کا ذکر تھا۔ قرآن شریف پر یہ آپؒ کی آخری تقریر تھی اور اتنی دلچسپ، فکر انگیز، عالمانہ اور بلند پایہ تقریر تھی کہ اس کا بیان نہیں ہوسکتا۔"
🕊️ آخری ایام

۲۸؍ شعبان ۱۳۶۳ھ (۱۸اگست ۱۹۴۴ء) کو آپؒ کے نواسے مولانا ظہیرالحق دین پوریؒ آپؒ کو دین پور لے جانے کے لیے دار الرشاد پیر جھنڈا پہنچے۔ مولانا ظہیرالحق دین پوریؒ کا بیان ہے کہ مولانا سندھیؒ آخری دم تک مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ کو قرآنی تفسیر قلم بند کراتے رہے۔ چناںچہ وہ لکھتے ہیں:

"(۲۸؍ شعبان) دین پور شریف سے چند عزیزوں کے ساتھ ہم وہاں (دار الرشاد پیرجھنڈا) پہنچے، ہم نے دیکھا کہ آپؒ تکیوں کے درمیان (کمزوری کی وَجہ سے) ایک گڑیا کی طرح دھنسے ہوئے (بیٹھے) تھے۔ حضرت (سندھیؒ) بولے جارہے تھے اور ان کے سامنے جناب مولانا بشیر احمد بی۔اے لدھیانویؒ، جو کہ آپؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے، قلم برداشتہ لکھتے جارہے تھے۔"

حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ واپس ہندوستان تشریف لائے اور حضرت شیخ الہندؒ کے مشن پر ولی اللّٰہی علوم و افکار کے فروغ کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ حضرتؒ کے مقالات اور تحریرات چھپنے شروع ہوئے تو یہاں کے بعض حلقوں نے حضرت سندھیؒ کے علوم و افکار پر تنقید شروع کی۔ اس موقع پر حضرت سندھیؒ نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:

"ہمارے خیالات کو کوئی صحیح یا غلط سمجھے ‘ہم آخر تک ملک کی ترقی اور آزادی کے لیے اپنے استاذ مولانا محمودحسن دیو بندی شیخ الہندؒ کے طریقے پر کام کرتے ہوئے مریں گے۔ اللہ ہمیں توفیق بخشے۔ بس اس طرح جینا عبادت ہے۔ اور اس دُھن میں مرنا شہادت ہے۔"
🕊️ وصال مبارک

۲۹؍ شعبان ۱۳۶۳ھ / ۱۹؍ اگست ۱۹۴۴ء کو مولانا ظہیرالحق دین پوری کے ہمراہ آپؒ دارالرشاد پیر گوٹھ جھنڈا سندھ سے اپنے پیر و مرشد کے خلیفہ اول حضرت مولانا ابوالسراج غلام محمددین پوریؒ کی خانقاہ، دین پور ضلع خان پور، پنجاب تشریف لائے۔

۲؍رمضان المبارک ۱۳۶۳ھ /۲۱اگست ۱۹۴۴ء بروز منگل، بوقت ظہر، روزے اور سجدے کی حالت میں اسی خانقاہ میں آپؒ کی روح عالمِ بالا کی طرف پرواز کرگئی۔ اس طرح ہجری حوالے سے تقریباً پچاسی سال کی متحرک اور انقلابی زندگی بسر کرکے واصل بہ حق ہوئے۔

اسی روز آپؒ کو خانقاہِ راشدیہ قادریہ دین پور کے بانی حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری رحمۃ اللہ علیہ کے قریب دین پور کے قبرستان میں سپُردِ خاک کردیا گیا۔

"آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے"

حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی زندگی کے یہ نقوش غور و فکر اور سمجھنے والوں کے لیے ہدایت کا بڑا سامان رکھتے ہیں اور فکر و شعور کی بالیدگی کا باعث ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

IMAM OF REVOLUTION MAULANA UBAIDULLAH SINDHI (RA): PERSONALITY & CHARACTER

Maulana Ubaidullah Sindhi (RA)
📚
Born: 12 Muharram 1289 AH / 10 March 1872 CE
Birthplace: Chianwali, Sialkot, Punjab
Died: 2 Ramadan 1363 AH / 21 August 1944 CE
Place of death: Dinpur, Khanpur, Punjab
Buried: Rashidia Khanqah, Dinpur
Teachers: Shaikh al-Hind Mahmud Hasan, Rashid Ahmad Gangohi
Spiritual lineage: Rashidia Qadiriyya
Major works: Al-Tamhid, Khutbat wa Maqalat, Ilham al-Rahman

📅 MAJOR EVENTS

1872
Birth in Sialkot
1887
Accepted Islam
1888
Entered Darul Uloom Deoband
1891
Arrived in Amrot
1915
Departed for Kabul
1926
Arrived in Makkah
1939
Returned to India
1944
Demise in Dinpur
👶 BIRTH

Maulana Ubaidullah Sindhi (RA) was born on Friday, 10 March 1872 CE (12 Muharram 1289 AH) before dawn in the village of Chianwali, near Sialkot, Punjab, in a Sikh family. From childhood, signs of intelligence and brilliance were evident. His father had passed away four months before his birth. Two years after his birth, his grandfather also died. His mother took him to her parents' home in the city of Jam Pur, District Dera Ghazi Khan, Punjab.

📚 EARLY EDUCATION

In 1878 CE (1295 AH), at the age of six, he began his education at the Urdu Middle School in Jam Pur. During his academic period, he studied mathematics, algebra, Euclid, and Indian history with great interest. History, philosophy, and mathematics were his favorite subjects. During this time, he developed the habit of reading books—whatever book was available, he would read it thoroughly.

📖 REALIZATION OF ISLAM'S TRUTH THROUGH TUHFAT AL-HIND

In 1884 CE (1301 AH), the book "Tuhfat al-Hind" came into his hands. It was written by Maulana Ubaidullah Maler Kotlawi (known as Maulvi Pandit), a scholar who had converted from Hinduism to Islam. The book clearly demonstrated the weaknesses of Hindu beliefs with evidence. Maulana Sindhi himself writes:

"I studied this book with great discipline. I understood it well and even memorized it. Through this book, Allah granted me the ability to accept the beliefs of Islam."
📖 STRENGTHENING OF FAITH THROUGH TAQWIYAT AL-IMAN

For the next three years, he secretly performed prayers, fasts, and learned the basics of Shariah. During this period, he read "Taqwiyat al-Iman" by Shah Ismail Shaheed (RA), the grandson of Shah Waliullah Dehlavi (RA). This further strengthened his Islamic beliefs. During Ramadan 1304 AH (1887 CE), he kept some fasts, but due to family pressure, he had to abandon the remaining fasts that Ramadan.

🕋 DECLARATION OF ISLAM AND THE NAME "UBaidullah"

On 24 Dhu al-Qa'dah 1304 AH (15 August 1887 CE), while studying in the third year of middle school, he left his hometown to declare his Islam and reached Kotla Raham Shah, District Muzaffargarh. On 9 Dhu al-Hijjah 1304 AH (29 August 1887 CE), he performed the Sunnah of purification. A few days later, when his relatives began pursuing him, he went to Sindh and publicly announced his acceptance of Islam. He had already named himself "Ubaidullah" after the author of Tuhfat al-Hind (Maulana Ubaidullah Maler Kotlawi). During this time, he began studying Arabic grammar and syntax books with a student.

🤲 ALLEGIANCE TO THE RASHIDIA QADIRIYYA ORDER

In Safar 1305 AH (1888 CE), he took bay'ah at the hands of Sayyid al-Arifeen, Shaikh al-Mashaikh, Hafiz Muhammad Sadiq of Bherchondi Sharif (Sindh). He instructed him in the Kalima Tayyiba. He was the Imam of the famous spiritual order "Rashidia Qadiriyya". He had spent some time in the company of Shah Muhammad Ismail Shaheed (RA) when he was on his way from India to Balakot and stayed with his spiritual guide Pir Sibghatullah Shah Rashidi (RA) at Pirjo Goth, Sindh.

🕋 PARTICIPATION IN DHIKR ASSEMBLIES

Maulana Sindhi stayed with Hafiz Muhammad Sadiq for about two months, regularly attending his assemblies and dhikr circles. He greatly benefited from his attention and love. Hafiz Sadiq treated him like a son and bestowed spiritual attention upon him. Through the blessings of this righteous gathering, Islamic social values became deeply rooted in his heart. Hafiz Sadiq prayed for him: "May Allah grant Ubaidullah the companionship of a deeply rooted scholar." It was the effect of this prayer that Allah brought him to the service of Shaikh al-Hind Maulana Mahmud Hasan in Deoband.

📖 BEGINNING OF DARS-E-NIZAMI

In Rabi' al-Thani 1305 AH (1887 CE), he went to Dinpur near Khanpur (Punjab) to the first caliph of Sayyid al-Arifeen, Maulana Abul-Siraj Ghulam Muhammad Dinpuri (RA). He stayed there for six months and studied Arabic grammar books up to "Hidayat al-Nahw" with Maulana Abdul Qadir. Maulana Dinpuri wrote a letter to his mother. She came and tried hard to take him back to Jam Pur, but Maulana Sindhi remained steadfast and did not go with her.

In Shawwal 1305 AH (June 1888 CE), he came from Dinpur to Kotla Raham Shah, District Muzaffargarh, and studied the famous grammar book "Kafiya" with Maulana Khuda Bakhsh.

🏫 COMPLETION OF DARS-E-NIZAMI AT DARUL ULOOM DEOBAND

In Safar 1306 AH (October 1888 CE), he enrolled at Darul Uloom Deoband and studied logic and philosophy texts up to "Qutbi" with various teachers. He learned the correct method of studying Arabic books from a distinguished teacher and, through personal effort, advanced in knowledge. For the remaining months of that year, he stayed in Rampur at the madrasa of Maulana Ahmad Hasan Kanpuri (a student of Maulana Muhammad Qasim Nanotwi) and completed advanced books on logic and philosophy.

In Safar 1307 AH (October 1889 CE), he returned to Deoband. For the first two or three months, he studied Usul al-Fiqh and Kalam with Maulana Hafiz Ahmad, the rector of Darul Uloom Deoband, and then studied Fiqh and Usul al-Fiqh with Shaikh al-Hind Maulana Mahmud Hasan (RA). In Sha'ban 1307 AH (April 1890 CE), he participated in the annual examination and secured first place in his class. In the examination, Maulana Syed Ahmad Dehlavi, the senior teacher of Darul Uloom Deoband, praised his answers greatly and remarked:

"If he gets access to books, he will become the second Shah Abdul Aziz."
✨ BLESSED DREAMS

During this period, Maulana Sindhi had very good dreams. He dreamt of Imam Abu Hanifa (RA) and then, after some time, he was blessed with the dream of the Prophet Muhammad (peace be upon him).

✍️ BEGINNING OF AUTHORSHIP

In Ramadan 1307 AH (April 1890 CE), he wrote a treatise on Usul al-Fiqh, titled "Marasid al-Wusul ila Maqasid al-Usul". He presented it to his teacher Shaikh al-Hind Maulana Mahmud Hasan, who greatly appreciated it. In this treatise, he adopted the position that "al-Rasikhun fi al-'ilm" (those deeply rooted in knowledge) understand the interpretation of mutashabihat through their God-given knowledge.

🎓 GRADUATION FROM DARUL ULOOM DEOBAND

In Shawwal 1307 AH (May 1890 CE), he studied "Tafsir al-Baydawi" at Darul Uloom Deoband, and in 1308 AH (1890 CE), he participated in all the books of the Hadith course. He studied "Jami' al-Tirmidhi" with Shaikh al-Hind. During this time, he self-studied all the books of Maulana Muhammad Qasim Nanotwi and thoroughly understood them with the help of Shaikh al-Hind.

🕋 IN THE SERVICE OF MAULANA RASHID AHMAD GANGOHI

In 1308 AH (1890 CE), he went to Gangoh and studied "Sunan Abi Dawud" with Maulana Rashid Ahmad Gangohi (RA). Maulana Sindhi himself writes:

"I studied a large portion of Sunan Abi Dawud with Shaikh al-Islam (Gangohi) with deep jurisprudential research. I benefited greatly from studying with him from a research perspective. I derived immense benefit from him, and it is the effect of his company on my heart that prevented me from changing my views in difficult circumstances. It is through his company that the Waliullahi path became illuminated before me. Thus, I correctly understood the important points of Fiqh, the fundamental rules of suluk and tariqah, the Arabic language, and the foundational and rational discussions of the Book and Sunnah. I witnessed with my own eyes that he was undoubtedly a mujtahid and expert Imam of the Hanafi school. Our Shaykh (Gangohi) was a mountain of steadfastness on the path of his Shaykh, Shah Abdul Ghani Mujaddidi Dehlavi. He was a Waliullahi and greatly resembled Sadr al-Hamid Shah Muhammad Ishaq Dehlavi."
🏥 TREATMENT IN DELHI AND RETURN TO SINDH

In Rabi' al-Thani 1308 AH (November 1890 CE), he fell ill and went to Delhi for treatment. On the recommendation of Shaikh al-Hind, he was treated by Hakeem Mahmud Khan, which brought him much relief. During this time, he studied many books in Hakeem Sahib's library. After recovering, with the permission of Shaikh al-Hind, he went straight from Delhi to Sindh. In Rajab 1308 AH (February 1891 CE), Shaikh al-Hind sent him a written permission to teach.

🕌 ARRIVAL IN BHERCHONDI SHARIF

On 20 Jumada al-Thani 1308 AH (February 1891 CE), he arrived in Bherchondi Sharif, Sindh, directly from Delhi. His spiritual guide, Hafiz Muhammad Sadiq, had passed away ten days before his arrival. He stayed in Bherchondi Sharif until Ramadan 1308 AH (April 1891 CE), during which Maulvi Kamal al-Din studied "Sunan Abi Dawud" with him.

🌴 MARRIAGE AND TEACHING IN AMROT SHARIF

In Shawwal 1308 AH (May 1891 CE), he went to Amrot Sharif, District Sukkur, Sindh, to the second caliph of Hafiz Muhammad Sadiq, Maulana Abul Hasan Taj Mahmud Amroti (RA), who arranged his marriage. For seven years until 1315 AH (1897 CE), he remained in Amrot Sharif engaged in teaching Hadith, Tafsir, and related sciences. During this period, a large group of scholars from Sindh received education from him.

During these seven years, Maulana Sindhi taught Shah Waliullah's books on Quranic exegesis: "Fath al-Rahman bi Tarjumat al-Quran" and "Al-Fawz al-Kabir fi Usul al-Tafsir" with great attention. He worked on establishing the connection between Quranic verses and arranging chapters and sections of Surahs. For understanding Hadith and Fiqh, he taught Shah Waliullah's "Hujjat Allah al-Baligha" and "Al-Musawwa min Ahadith al-Muwatta". For understanding history and politics, he taught "Izalat al-Khifa an Khilafat al-Khulafa". He also taught selected essays from the books of Shah Abdul Aziz Dehlavi, Shah Ismail Shaheed, and Maulana Muhammad Qasim Nanotwi. Through this, he developed great mastery in teaching according to the Waliullahi method.

📝 WRITINGS DURING AMROT PERIOD

During his stay in Amrot, he authored the following books:

1Ta'liq ala Ma'ani al-Athar li Imam al-Tahawi
Annotations on Imam Tahawi's book on Hadith
2Ta'liq ala Fath al-Qadir li Muhaqqiq Ibn al-Humam
Annotations on Ibn al-Humam's Fiqh book
3Fath al-Salam fi Sharh Bulugh al-Maram
Commentary on Bulugh al-Maram
4Sharh Safar al-Sa'ada lil-Firuzabadi
Commentary on Firuzabadi's book
5Takhrij ma fi al-Bab lil-Imam al-Tirmidhi
Verification of all hadiths mentioned under "ma fi al-bab" in Jami' al-Tirmidhi
6Takhrij Ahadith Ghunyat al-Talibin lil-Shaykh Abd al-Qadir al-Jilani
Verification of hadiths in Ghunyat al-Talibin
7Izalat al-Shubah an Fardiyyat al-Jumu'ah
Treatise on the obligation of Friday prayer
8Tahdhib Raf' al-Yadayn lil-Imam al-Bukhari
Reorganization of Imam Bukhari's treatise
9Tansiq Ahadith Bad' al-Wahy min al-Jami' al-Sahih
On the coherence of hadiths in the chapter on the beginning of revelation
10Assistance in Sindhi Translation of the Quran
Assisted Maulana Taj Mahmud Amroti in his Sindhi translation of the Quran
🏢 ESTABLISHMENT OF "MATBA MAHMUDIYA"

During his stay in Amrot Sharif, he established a publishing house called "Matba Mahmudiya". From this press, he started a monthly magazine in Sindhi called "Hidayat al-Ikhwan". The press also published Imam Tahawi's book "Al-'Aqida lil-Imam al-Tahawi".

🤲 KHILAFAT FROM MAULANA DINPURI AND MAULANA AMROTI

During his stay in Amrot Sharif, he traversed the stages of suluk in the Rashidia Mujaddidiyya order. Upon completion, Maulana Taj Mahmud Amroti and Maulana Abul-Siraj Ghulam Muhammad Dinpuri granted him khilafat and authorized him to guide others in tasawwuf. Later, Shaikh al-Hind also granted him authorization in his Chishti order, as well as all other orders.

🏫 ESTABLISHMENT OF "DAR AL-RASHAD" AT SHAIKH AL-HIND'S COMMAND

In Ramadan 1315 AH (November 1897 CE), he came to Deoband and benefited from the company of Shaikh al-Hind, presenting his writings to him. Shaikh al-Hind greatly appreciated them and instructed him to engage in political work and to establish a madrasa in Sindh on the pattern of Darul Uloom Deoband, named "Dar al-Rashad".

In Shawwal 1319 AH (1901 CE), he established a religious center called "Dar al-Rashad" near Goth Pir Jhanda, Hyderabad, Sindh. For seven years, he carried out scholarly and political work there, training scholars with revolutionary ideas. Shaikh al-Hind and Maulana Shaykh Husain bin Muhsin Ansari Yamani also visited this center, reviewed the entire educational system, and expressed satisfaction. During his stay in Dar al-Rashad, he dreamt of Imam Malik (RA) and also had the honor of dreaming of the Prophet (peace be upon him).

🤝 ARRIVAL IN DARUL ULOOM DEOBAND AND ESTABLISHMENT OF "JAMIYAT AL-ANSAR"

In Ramadan 1327 AH (1909 CE), at the command of Shaikh al-Hind, he permanently moved from Sindh to Deoband. On 27 Ramadan 1327 AH (12 October 1909 CE), under the patronage of Shaikh al-Hind, he established "Jamiyat al-Ansar" and was elected as its chief organizer. Under this organization, he established a system for the education and training of the graduates of Darul Uloom Deoband from the past forty years. He also organized public gatherings to inspire the masses for the freedom movement. For four years, he worked diligently in this effort according to Shaikh al-Hind's instructions.

🏛️ FROM DEOBAND TO DELHI AND ESTABLISHMENT OF "NAZARAT AL-MA'ARIF AL-QUR'ANIYYA"

In 1912, when the British government shifted its capital from Calcutta to Delhi, making Delhi the new center of Indian politics, Shaikh al-Hind sent Maulana Sindhi from Deoband to Delhi. In 1331 AH (1913 CE), he established an institution called "Nazarat al-Ma'arif al-Qur'aniyya" at Fatehpuri Mosque, Chandni Chowk, Delhi, under the patronage of Shaikh al-Hind, Hakeem Ajmal Khan, and Nawab Waqar al-Mulk. At this institution, he began teaching the interpretation of the Quran based on the principles of "Al-Fawz al-Kabir" in the context of modern issues, and he started teaching "Hujjat Allah al-Baligha" in light of contemporary politics. During this stay in Delhi, Shaikh al-Hind introduced him to Dr. Mukhtar Ahmad Ansari, Maulana Abul Kalam Azad, and Maulana Muhammad Ali Johar.

✈️ DEPARTURE TO KABUL

In Jumada al-Thani 1333 AH (1915 CE), at the command of Shaikh al-Hind, he departed for Kabul, Afghanistan. To avoid British spies, he spent four months in Sindh secretly preparing for the journey. On 3 Shawwal 1333 AH (15 August 1915 CE), he left Sindh for Kandahar, passing through Quetta, Balochistan, and arrived in Kabul in the first ten days of Dhu al-Hijjah 1333 AH (October 1915 CE). He stayed in Kabul for seven years.

⚔️ ESTABLISHMENT OF "JUNUD ALLAH AL-RABBANIYYA"

During this period, he established a group called "Junud Allah al-Rabbaniyya". This group worked for the freedom of India and Afghanistan. After the end of World War I, this group also worked to train Afghan government officials, aiming to develop their capability to run an Islamic caliphate on democratic principles. It also aimed to educate and train all Muslim groups in economics, politics, and various sciences.

🏛️ ESTABLISHMENT OF THE PROVISIONAL GOVERNMENT OF INDIA IN KABUL

In 1334 AH (1916 CE), he established the "Provisional Government of India" in Kabul, serving as its Foreign Minister. In 1922, he formed the "Congress Committee Kabul" and was appointed its president. This committee's affiliation was approved by the Indian National Congress at its session in Gaya.

🇷🇺 FROM KABUL TO RUSSIA

In 1340 AH (1922 CE), he secretly left Kabul for Turkey via Russia, staying in Moscow for seven months. Since his connection with the Indian National Congress was officially established, Soviet Russia treated him as a guest and provided all facilities to study the Russian Revolution. Maulana Sindhi writes:

"The result of this study was that I succeeded in devising measures to protect my religious movement, which is a branch of Shah Waliullah's philosophy, from the atheistic attacks of that time."
🇹🇷 STAY IN TURKEY

In 1341 AH (1923 CE), he arrived in Ankara, Turkey, staying for four months. During his stay, he met revolutionary leaders such as Ismet Pasha and Rauf Bey. He also met Egyptian scholar Shaykh Abdul Aziz Jawish. He then moved to Istanbul, the capital of Turkey, and stayed there for three years. During this time, he studied European history deeply, especially the Ottoman Caliphate, its institutions, national democratic movements, British developments, and the French Revolution.

📜 DRAFTING OF "CONSTITUTIONAL OUTLINE OF FREE INDIA"

On 15 September 1924, from Istanbul, he issued a political manifesto titled "Constitutional Outline of Free India" to address the future political and economic affairs of India. In it, he outlined the features of establishing a non-capitalist economic and political system in India from a popular democratic perspective.

🕋 JOURNEY TO MAKKAH

In Jumada al-Thani 1344 AH (June 1926 CE), an "Al-Mu'tamar al-Islami" conference was being held in Makkah during the Hajj season. Maulana Sindhi wished to attend this international gathering. Due to risks of direct travel, he went from Istanbul to Italy and then to Switzerland, where he stayed for some time studying modern Italian and European politics. He then went to "Massawa," an Italian colonial city on the African coast.

In Safar 1345 AH (August 1926 CE), he traveled from Massawa to Makkah.

📖 TEACHING IN THE HARAM

During his stay in Makkah, he resumed teaching at the Masjid al-Haram. Scholars of the Haram studied the following books with him:

1Muwatta Imam Malik
2Muwatta Imam Muhammad
3Al-Risala lil-Imam al-Shafi'i
4Al-Musawwa min Ahadith al-Muwatta
5Al-Fawz al-Kabir lil-Imam Shah Waliullah Dehlavi
6Usul al-Fiqh lil-Imam Muhammad Isma'il Shaheed
7Sharh al-Nukhba li Ibn Hajar
8Muqaddimah Sahih Muslim
9Kitab al-'Ilal
10Jami' al-Tirmidhi

He also taught Shah Waliullah's books: "Fath al-Rahman", "Fuyud al-Haramayn", "Izalat al-Khifa", and Shah Ismail Shaheed's books: "Sirat-i Mustaqim", "Mansab-i Imamat", "'Abaqat", "Taqwiyat al-Iman", as well as Maulana Nanotwi's books. He writes:

"I had been studying the Quran and Hujjat Allah al-Baligha deeply for about thirteen or fourteen years. Whatever difficult points I had in Quranic exegesis, I resolved them with satisfaction according to Shah Waliullah's principles during my stay in the Haram. I saw in the Quran a superior curriculum of practical teachings for this age. One must acknowledge the influence of this sacred place. I continued my study of Shah Waliullah's famous books such as Budur al-Bazigha, Khayr Kathir, Tafhimat Ilahiyya, Sata'at, Lama'at, Altaf al-Quds, etc. As keys to these books, I benefited from Shah Rafi al-Din's Takmil al-Adhhan, Shah Ismail Shaheed's 'Abaqat, and Maulana Muhammad Qasim's Qasim al-'Ulum, Taqrir-i Dilpazir, and Ab-i Hayat. I also had the opportunity to teach these books while continuing to teach the Quran. This greatly broadened my vision. Al-hamdu lillah."
📘 AUTHORSHIP OF "AL-TAMHID LI TA'RIF A'IMMAT AL-TAJDID"

During his stay in Makkah, he wrote an important book in Arabic introducing the reformative work of the scholars of the Waliullahi tradition, their historical continuity, and chains of transmission. This book, titled "Al-Tamhid li Ta'rif A'immat al-Tajdid," consists of approximately 500 large pages and contains four profound essays. He completed this work on 8 Rajab 1349 AH (29 November 1930 CE).

📖 DICTATION OF "ILHAM AL-RAHMAN FI TAFSIR AL-QURAN"

During his stay in the Haram, he taught a complete Tafsir of the Quran to the famous Russian scholar Musa Jarullah, who meticulously recorded it. Starting on Monday, 18 Jumada al-Awwal 1356 AH (26 July 1937 CE), he dictated this Tafsir daily from sunrise until Zuhr or Asr until 13 Dhu al-Qa'dah 1356 AH (13 January 1938 CE). Thus, in about six months, the dictation of the complete Tafsir was completed. This Tafsir remains in manuscript form in three volumes. The first few surahs were published by Maulana Ghulam Mustafa Qasimi under the title "Ilham al-Rahman fi Tafsir al-Quran". During this period, Musa Jarullah also studied most of Shah Waliullah's books with Maulana Sindhi.

🇮🇳 RETURN TO INDIA

In 1936, Indian political parties, especially the Indian National Congress, Jamiat Ulema-e-Hind, and prominent Indian leaders such as Maulana Abul Kalam Azad, Maulana Syed Hussain Ahmad Madani, and Maulana Ghulam Rasool Mehr, began efforts for Maulana Sindhi's return to India. As a result of their efforts, on 1 November 1938, he was informed of permission to return. On 1 January 1939, he was issued a passport. Since Hajj season was approaching, he performed Hajj and then returned to India.

On 14 Muharram 1358 AH (7 March 1939 CE), he landed at Karachi port. The Prime Minister of Sindh, Allah Bakhsh Soomro, along with city dignitaries and ministers, gave him a grand welcome. Upon landing on Karachi's shore, he delivered a momentous speech on the importance of revolutionary thought and action based on religion, which is published in his collection of speeches.

On 16 Rabi' al-Thani 1358 AH (3 June 1939 CE), after his return, he was elected President of the Jamiat Ulema-e-Bengal session in Calcutta, where he delivered his first presidential address after returning to India. He was warmly welcomed across the country, with all political and non-political parties holding receptions in his honor.

📝 IMPORTANT "SPEECHES AND ARTICLES"

On 25 October 1941, he wrote an important article titled "Shah Waliullah Dehlavi's Political Movement" with his own pen. He taught it to his beloved student, Professor Maulana Noorul Haq Alvi of Oriental College, Lahore, and explained its difficult points. Consequently, Maulana Alvi wrote annotations on it. This article was published by Sindh Sagar Academy, Lahore, on 11 November 1941. Later, Professor Muhammad Sarwar translated the Arabic and Persian annotations into Urdu and republished it along with the original article in January 1944 under the title "Shah Waliullah and His Political Movement".

In Dhu al-Qa'dah 1359 AH (December 1940 CE), for the Shah Waliullah special issue of the monthly "Al-Furqan," Maulana Sindhi wrote a profound article titled "A Brief Introduction to Shah Waliullah's Wisdom," which was also transcribed by Maulana Noorul Haq Alvi, who added annotations and references from Arabic and Persian books. Professor Muhammad Sarwar translated the annotations and published it in May 1944 as "Shah Waliullah and His Philosophy". After reading this article, Maulana Syed Sulaiman Nadwi wrote to the editor of Al-Furqan:

"I read Maulana Sindhi's article carefully and finished it with the conviction that undoubtedly Maulana's vision of Shah Waliullah's philosophy and ideas is extremely vast and deep."

The editor of Al-Furqan, Maulana Muhammad Manzoor Nu'mani, wrote:

"Aside from a few places with unusual expressions and one or two of Maulana's unique opinions, this article is not only a brief introduction to Shah Waliullah's wisdom but also provides ample material for a deep understanding of his scholarly work. It can rightly be considered foundational literature for Waliullahi sciences."

During this period, he wrote many articles and presidential addresses. His last writing, twenty days before his death, was the "Inaugural Address" for the Muhammad Qasim Waliullah Theological School in Shahdadkot, District Larkana, on 2 August 1944. Some of his speeches and articles were first compiled by Professor Muhammad Sarwar. Later, the undersigned collected all available articles and speeches, published as a voluminous book "Khutbat wa Maqalat Maulana Ubaidullah Sindhi" in September 2002.

📖 REVOLUTIONARY EXEGESIS OF QURANIC SURAHS

In Rajab 1353 AH (July 1944), despite illness, Maulana Sindhi traveled from Karachi to Hyderabad, Mirpur Khas, and Nawabshah, finally reaching Goth Pir Jhanda and staying at Dar al-Rashad. During this time, Maulana Bashir Ahmad Ludhianvi brought the Tafsir of Surah Muzammil and Surah Muddaththir, which he had compiled as "Qur'ani Dastur-i Inqilab," to show to Maulana Sindhi for correction. Maulana Deen Muhammad Wafai writes:

"At Dar al-Rashad, Maulana Sindhi's disciple, Maulvi Bashir Ahmad Ludhianvi, was staying. Maulana Sindhi listened to his Tafsir of Surah Muzammil and Surah Muddaththir, which he had compiled. Bashir Ahmad presented the book to him and got it corrected. The next morning, Maulana Sindhi gave a lesson on the Quran, covering verses about making Makkah the center of the Quranic revolution. This was his last speech on the Quran, and it was so interesting, thought-provoking, scholarly, and sublime that it cannot be described."
🕊️ FINAL DAYS

On 28 Sha'ban 1363 AH (18 August 1944 CE), his grandson Maulana Zaheerul Haq Dinpuri came to Dar al-Rashad to take him to Dinpur. Maulana Zaheerul Haq Dinpuri states that Maulana Sindhi continued dictating the Quranic exegesis to Maulana Bashir Ahmad Ludhianvi until the very end. He writes:

"On 28 Sha'ban, along with some companions, we reached there (Dar al-Rashad). We saw Maulana sitting amidst cushions, weak like a doll. He was speaking, and Maulana Bashir Ahmad, his private secretary, was writing."

After returning to India, Maulana Sindhi began working to spread Waliullahi sciences and thoughts based on Shaikh al-Hind's mission. When his articles and writings began to be published, some circles criticized his ideas. On one occasion, he stated in a speech:

"Whether people consider our ideas right or wrong, we will continue to work for the progress and freedom of the country on the path of our teacher, Maulana Mahmud Hasan Deobandi, Shaikh al-Hind, until we die. May Allah grant us ability. Living like this is worship, and dying in this pursuit is martyrdom."
🕊️ BLESSED DEMISE

On 29 Sha'ban 1363 AH (19 August 1944 CE), accompanied by Maulana Zaheerul Haq Dinpuri, he came from Dar al-Rashad to the Khanqah of his spiritual guide's first caliph, Maulana Abul-Siraj Ghulam Muhammad Dinpuri, in Dinpur, District Khanpur, Punjab.

On Tuesday, 2 Ramadan 1363 AH (21 August 1944 CE), at noon, while in a state of fasting and prostration, his soul departed to the Almighty at that Khanqah. Thus, after approximately eighty-five years of a dynamic and revolutionary life, he passed away.

The same day, he was buried in the cemetery of Dinpur, near the founder of Khanqah Rashidia Qadiriyya, Caliph Ghulam Muhammad Dinpuri.

"May the heavens shower dew upon your grave."

These glimpses of Maulana Ubaidullah Sindhi's life provide great guidance for those who reflect and lead to the flourishing of thought and consciousness. May Allah grant us the ability to follow his example. (Ameen!)