MOLANA UBAIDULLAH SINDHI EARLY LIFE AND EDUCATION

مولانا عبیداللہ سندھی کی مکمل سوانح حیات: پیدائش، قبول اسلام، دارالعلوم دیوبند میں تعلیم، بیعت و روحانی تربیت اور علمی کارنامے۔ مفتی عبدالخالق آزاد را

امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی

شخصیت و کردار

مولانا عبید اللہ سندھی کی زندگی انقلاب آفرین شخصیت کا آئینہ ہے۔ ان کی جدوجہد، علم و عمل اور امت کی اصلاح کے لیے بے پناہ کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ابتدائی زندگی اور پیدائش

۱۲ محرم ۱۲۸۹ھ پیدائش

۱۰ مارچ ۱۸۷۲ء بروز جمعہ سیالکوٹ کے قریب گاؤں چیانوالی میں پیدا ہوئے۔ والد کا انتقال آپ کی پیدائش سے چار ماہ قبل ہو چکا تھا۔

۱۲۹۵ھ تعلیم کا آغاز

چھ سال کی عمر میں جام پور کے اردو مڈل سکول میں داخلہ۔ ریاضی، الجبرا، اقلیدس اور تاریخ ہند سے دلچسپی۔ مطالعے کی عادت اس وقت پڑی۔

۱۳۰۴ھ قبول اسلام

"تحفۃ الہند" کے مطالعے سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔ تین سال تک خفیہ طور پر نماز و روزہ اور شریعت کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔

۲۴ ذی قعدہ ۱۳۰۴ھ اظہار اسلام

۱۵ اگست ۱۸۸۷ء کو گھر سے نکل کر کوٹلہ رحم شاہ پہنچے اور ۲۹ اگست کو سنت تطہیر ادا کی۔ بعد ازاں سندھ میں جا کر اسلام کا اعلان کیا۔

بیعت و روحانی تربیت

صفر ۱۳۰۵ھ بیعت

سید العارفین حضرت حافظ محمد صدیق بھر چونڈی والے کے ہاتھ پر بیعت کی۔ راشدیہ قادریہ طریقہ سے وابستہ ہوئے اور دو ماہ ان کی صحبت میں رہے۔

ربیع الثانی ۱۳۰۵ھ دین پور آمد

خلیفہ اول مولانا ابوالسراج غلام محمد کے پاس دین پور آئے اور چھ ماہ میں "ہدایۃ النحو" تک کی کتابیں پڑھیں۔

دارالعلوم دیوبند میں تعلیم

صفر ۱۳۰۶ھ داخلہ

دارالعلوم دیوبند میں داخل ہو کر منطق و فلسفہ کی کتابیں پڑھیں۔ عربی کتابوں کا صحیح طریقہ مطالعہ سیکھا۔

صفر ۱۳۰۷ھ واپسی دیوبند

دوبارہ دیوبند آئے اور حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن سے فقہ و اصول فقہ کی تعلیم حاصل کی۔

شعبان ۱۳۰۷ھ امتحان میں کامیابی

سالانہ امتحان میں اول آئے۔ مولانا سید احمد دہلوی نے فرمایا: "اگر اسے کتابیں ملیں تو یہ شاہ عبدالعزیز ثانی ہوگا۔"

روحانی کیفیات و اجازت

رمضان ۱۳۰۷ھ پہلا رسالہ

اصول فقہ پر "مراصد الوصول الی مقاصد الاصول" تحریر کیا جو شیخ الہند نے پسند فرمایا۔

رجب ۱۳۰۸ھ اجازت حدیث

حضرت شیخ الہند نے درس و تدریس کا اجازت نامہ عطا فرمایا۔

سندھ میں علمی زندگی

۱۳۰۸-۱۳۱۵ھ امروٹ شریف

مولانا ابو الحسن تاج محمود امروٹی کے پاس امروٹ میں قیام۔ حدیث، تفسیر اور ولی اللہی کتب کا درس و تدریس۔ سات سالہ قیام میں ولی اللہی مسلک پر کامل عبور حاصل کیا۔

درس نظام تدریسی کتب

امام شاہ ولی اللہ کی "حجۃ اللہ البالغہ"، "المسویٰ"، "ازالۃ الخفاء" اور شاہ عبدالعزیز، شاہ اسماعیل شہید اور مولانا قاسم نانوتوی کی کتابیں پڑھائیں۔

مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری کے قلم سے تحریر کردہ یہ خاکہ امام انقلاب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔

Post a Comment