قرآن حکیم: تمام قوموں کے لیے جامع تعلیم – حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ

حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطابق، قرآن ہر قوم کے لیے ہدایت ہے اور تدبر سے ہر انسان اپنی راہ حاصل کر سکتا ہے۔
حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطابق، قرآن ہر قوم کے لیے ہدایت ہے اور تدبر سے ہر انسان اپنی راہ حاصل کر سکتا ہے۔
قرآن حکیم: تمام قوموں کے لیے جامع تعلیم – حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ
قرآن حکیم: تمام قوموں کے لیے جامع تعلیم – حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ


قرآن حکیم تمام قوموں کو ایک نظریے پر جمع کرتا ہے
شاہ صاحبؒ کے اس فکر کی بدولت ہی ہم نے سمجھا کہ قرآن جامِعُ الاُمم (تمام قوموں کو جمع کرنے والا) ہے اور وہ صرف ایک گروہ یا قوم کی تاریخ کے بیان تک محدود نہیں۔ بے شک اس نے زیادہ تر بنی اسرائیل کے انبیاؑ کا ہی ذکر کیا، لیکن یہ مصلحت اور ضرورت کا تقاضا تھا۔ یقیناً فکر بھی انسانیت کی طرح غیر محدود ہوتا ہے، لیکن اسے دوسروں کو سنانے کے لیے خاص الفاظ اور حروف میں قید کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح مخاطبین کی رعایت سے اسے ایک خاص زمان اور مکان کے ساتھ مخصوص کرنا ہوتا ہے۔
قرآن کے پیرایۂ بیان کی خصوصیت بھی اسی بنیاد پر ہے، لیکن اس کے باوجود جا بہ جا بین السطور مفہوم کی عالمگیریت اور جامعیت واضح ہوتی ہے۔ اگر آدمی قرآن کے مطالعے میں تدبر و تعمق سے کام لے تو کُل نوع انسانی اس میں اپنا مقصد اور ما فی الضمیر پاسکتی ہے۔
— حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ
حوالہ: کتاب "شعور و آگہی"، مقالہ نمبر 01

Post a Comment