حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطابق، دین اور قرآن کو عالمگیر سطح پر سمجھنا ہر قوم کے لیے ضروری ہے۔
ہمارے خیال میں یہ تصور کُل بنی نوعِ انسان کو موجودہ خلفشار سے نکال سکتا ہے۔ ہر قوم کے عقل مند طبقوں کا رُجحان اب اس طرف ہو رہا ہے اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے اپنے فکری نظاموں کو عالَم گیر انسانیت کا ترجمان بنا کر پیش کریں۔
لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ وہ دین جو صحیح معنوں میں ساری دنیا کا دین تھا اور وہ کتاب جو کُل نوع انسانی کی ہدایت کی عَلَم بردار تھی، اور وہ ملت جس نے سب قوموں کو ایک بنایا اور جس کا تمدن ساری انسانیت کی ’’باقیاتِ صالحات‘‘ کا مرقع تھا، وہ دین، وہ کتاب، وہ ملت اور اس کا تمدن ایک فرقے کی جاگیر بن کر رہ گیا ہے۔
وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اس وسعت پذیر دور میں جس میں کرۂ زمین کی سب دوریاں سکڑ گئی ہیں، ملکوں، قوموں اور برِّاعظموں کی سرحدیں سمٹتی جا رہی ہیں۔ ریل، جہاز، طیاروں اور ریڈیو نے سب انسانوں کو ایک انسانی برادری میں بدل دیا ہے۔ ایسے زمانے میں ایک عالم گیر اور انسانی تعلیم کو کسی ایک گروہ تک محدود کر دینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ معلوم نہیں مسلمان اسلام کو کب سمجھیں گے اور قرآن کے پیغام کو کب اپنائیں گے۔
